ابنا: قاہرہ کے تحرير اسکوائر پر نئے آئين کے مسودے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پوليس اور سيکورٹي فورس نے طاقت کا بے تحاشا استعمال کيا ۔ اس سے پہلے اتوار کي رات مصر کے آئين ساز پينل نےجس کي قيادت سابق وزيرخارجہ اور عرب ليگ کے سابق سکريٹري جنرل عمرو موسي کررہے تھے، نئے آئيني مسودے کي منظوري دے دي ۔ نيا آئيني مسودہ منگل کو عبوري صدر منصور عدلي کو پيش کيا جائے گا جس پر وہ دستخط کريں گے اور پھر چھے مہينے کے اندر اس پر ريفرنڈم کرايا جائےگا ۔نئے آئيني مسودے کي ايک شق ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ بعض حالات ميں عام شہريوں پر فوجي عدالتوں ميں بھي مقدمہ چلايا جائے گا۔ نئے آئين کے مسودے کے اعلان کے بعد سے معزول صدر محمد مرسي کے حاميوں اور بغاوت کي مخالفت کرنےوالے گروہوں کي جانب سے مظاہرے شروع ہوگئے ہيں۔ سيکورٹي اداروں نے کم از کم دو سو افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات بھي عدالتوں ميں پيش کرديئے ہيں۔واضح رہے کہ مصر کےعبوري صدر نے گزشتہ ہفتے مظاہروں کے بارے ميں ايک آرڈي نينس جاري کيا تھا جس کے تحت وزارت داخلہ سے پيشگي اجازت لئے بغير ہر قسم کے مظاہروں پر پابندي عائد کردي گئي ہے جبکہ مظاہروں ميں شرکت کرنے والے اپنے چہرے چھپانے کے لئے کسي بھي قسم کے ماسک يا نقاب کا بھي استعمال کرنے کے مجاز نہيں ہيں۔......./169
1 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 485410
مصر ميں نئے آئين کے مسودے کي تياري کے اعلان کے خلاف قاہرہ کے تحرير اسکوائر پرايک بار پھر احتجاجي مظاہرے شروع ہوگئے ہيں۔